December poetry holds a unique place in hearts because it blends time, memory, and emotion into a single season. The quiet cold of December turns ordinary thoughts into deep reflections and unspoken feelings. Every passing day of this month feels heavier, as if memories fall like snow and settle slowly. This collection brings together emotions of love, loss, hope, and silence that December gently awakens.
دسمبر کی شاعری دل کو اس لیے چھو جاتی ہے کہ یہ موسم یادوں، خاموشی اور احساسات کو ایک ساتھ سمیٹ لیتا ہے۔ سرد دن اور لمبی راتیں دل کے اندر چھپے دکھ اور محبت کو زبان دے دیتی ہیں۔ یہ مہینہ بچھڑنے، انتظار اور امید کی ایک الگ ہی کیفیت رکھتا ہے۔ انہی جذبات کو دو مصرعوں میں سمیٹ کر دسمبر کی شاعری ہمیشہ دل کے قریب رہتی ہے۔
December Poetry Themes and Emotions
December poetry often revolves around themes of separation, nostalgia, and emotional stillness. The cold weather mirrors inner loneliness, while foggy mornings feel like blurred memories of the past. Poets use December as a symbol of endings, where relationships pause and emotions deepen. These themes make December poetry deeply relatable and emotionally rich.
Another strong emotion in December poetry is hope hidden beneath sadness. Even in freezing nights, there is a quiet belief that warmth will return with time. Love, faith, and patience quietly flow through verses, balancing grief with resilience. This emotional contrast is what gives December poetry its lasting impact and timeless depth.
Best 2 Lines December Shayari in Urdu
دسمبر آیا تو خاموشیوں نے سوال کیا
کیا یادوں کا موسم بھی کبھی بدلتا ہے
برف گرتی رہی، خواب پگھلتے رہے
وقت رکتا رہا، ہم بدلتے رہے
دسمبر کی راتوں میں چاندنی سی اداسی ہے
اس روشنی میں بھی تیری کمی بسی ہے
دسمبر کی شام نے دل سے تیرا نام لیا
خاموش لمحے نے پورا قصہ کہہ دیا
سرد ہواؤں نے تیرے خط سنائے
پتوں کی سرسراہٹ میں باتیں چھپ گئیں
دسمبر کا مہینہ بھی جیسے شاعر ہو
خاموش لفظوں میں کہانیاں کہتا ہے
اس مہینے میں وقت تھم سا جاتا ہے
جب دل میں تیری کمی بڑھ جاتی ہے
دسمبر کی بارش سب دھو گئی
مگر تیرا نقشِ خیال باقی رہا
سرد راتوں میں بھی تیری خوشبو ہے
مگر تو کہیں نظر نہیں آتا
دسمبر کے لمحوں میں اداسی بولی
محبت ہو تو خاموشی بھی گیت بن جاتی ہے

چراغ بجھتے گئے، ہم جلتے رہے
دسمبر کے دکھ دل میں اترتے رہے
شاید یہ دسمبر بھی گزر جائے
مگر تیرا انتظار باقی رہے
دسمبر آیا تو تنہائی بولی
کچھ یادیں ہیں جو اب تک نہیں سوئیں
سرد ہوا نے تیرے لمس کی یاد دلائی
کاش تو ہوتا، تو رات آسان ہوتی
دسمبر کی شاموں میں سناٹا سا ہے
شاید کوئی دل اب تک خفا سا ہے
برف میں لپٹی خواہشوں کا موسم ہے
ہر سانس میں تیری کمی کا عالم ہے
دسمبر کے لمحے رکے ہوئے لگتے ہیں
جیسے وقت نے سوچنا چھوڑ دیا ہو
کسی دسمبر کی رات وہ یاد آیا
خواب نہیں، ایک درد جاگ اٹھا
بارش نے دل کو بھگو دیا
پرانے زخم پھر ہرے ہو گئے
کہا جاتا ہے دسمبر محبتوں کا قاتل ہے
مگر ہم آج بھی اسی میں زندہ ہیں
دسمبر کا چاند کچھ اداس لگا
شاید اس نے بھی کسی کو کھو دیا
یہ دسمبر بھی گزر جائے گا
مگر دل کا موسم نہیں بدلے گا
دسمبر کی رات تیری سانسوں کی خوشبو
سرد ہوا میں بھی گرمی سی لے آئی
چاندنی تیرے چہرے پر اتر آئی
دسمبر تجھ سے ہی حسین لگا

تیرا لمس دسمبر میں بہار بن گیا
محبت نے موسم بدل دیا
دھند میں تیرا خیال آیا
جیسے چائے کے کپ میں خواب اتر آئے
تیری مسکراہٹ میں دسمبر پگھل گیا
جیسے برف میں سورج اتر آیا
تو قریب ہو تو دسمبر خواب لگتا ہے
دور ہو تو ہر لمحہ عذاب لگتا ہے
دسمبر کی شام میں جب تُو ساتھ ہو
وقت بھی رک کر ہمیں دیکھتا ہے
سرد ہوا میں تیری خوشبو بسی
محسوس ہوا تُو کہیں آس پاس ہے
دسمبر کی راتوں میں تُو مسکرائے
تو کہانیاں جاگ اٹھتی ہیں
تیرا نام لبوں پر آیا دسمبر میں
جیسے بہار اُتر آئی ہو
دسمبر کی ہوا نے چھو کر کہا
محبت ہو تو سردی بھی خوبصورت ہے
دھند میں خواب گم ہو گئے
نیند بھی تھکی تھکی سی لگنے لگی
دسمبر کے سورج میں بھی اداسی ہے
جیسے وہ بھی کسی کا منتظر ہو
برف کے قطروں نے زمین کو چھوا
احساس بھی ٹھنڈا پڑ گیا
دسمبر کی شامیں کتنی خاموش ہیں
جیسے دل کے چراغ بجھ گئے ہوں
سرد ہوا نے درختوں کو چپ کرا دیا
وقت نے بھی کچھ کہنا چھوڑ دیا
دسمبر کے موسم میں سناٹا کیوں ہے
شاید کوئی خواب پھر ٹوٹا ہے
سردیوں کا چاند بھی تھکا تھکا ہے
جیسے یادوں کا بوجھ اٹھا رہا ہو
دسمبر کی راتیں کہانیاں کہتی ہیں
ادھورے خوابوں اور جدائی کی
سردیوں کی دھوپ میں ایک چپ سی ہے
جیسے دل کسی گہرے خیال میں ہو
دسمبر آیا تو دل نے پرانے خط کھولے
کچھ لفظ پگھلے، کچھ زخم بولے
یہ دسمبر بھی کچھ اداس سا لگا
جیسے وقت نے خوابوں سے منہ موڑ لیا
دسمبر کی راتوں میں دل ٹوٹتے ہیں
خواب آئینوں میں چھپ جاتے ہیں
برف گرتی رہی، سوچیں جمتی گئیں
یادیں مگر رک نہ سکیں
دسمبر کے لفظوں میں اداسی لکھی ہے
شاید کسی نے دل سے یہ مہینہ لکھا
دسمبر گزرتا رہا، ہم ٹھہرے رہے
وقت ہنستا رہا، ہم روتے رہے
الوداع دسمبر، تُو بھی کیا خوب تھا
غم بھی دیا، احساس بھی دیا
December Poetry for Status and Sharing
دسمبر آیا تو یادوں کا کارواں لایا
خزاں کے ہاتھ میں خط، بہار کا پیغام لایا
تیری یاد برف کی طرح دل پہ جمتی ہے
دسمبر کی راتوں میں تیری خاموشی بولتی ہے
دسمبر کے دنوں میں امیدِ بہار رکھ
یہ سردی بھی کبھی موسمِ گلزار رکھ
دسمبر کی شبوں میں تیرا لمس مانگا
یہ جاڑے کے لمحے بھی کتنے سنگ دل نکلے
دسمبر آیا تو دل نے پھر فغاں کی
محبتوں کی رمق بھی خزاں کی
دسمبر کی یخ بستہ فضا نے یہ کہا
گرمیِ جاں ہی اصل انقلاب ہے

دسمبر نے چھوا تو خواب جلنے لگے
سرد ہوا چلی تو تیرے لب ہنسنے لگے
دسمبر کے لمحے خاموش و سنسان ہیں
مگر دل میں جلتا ایک ارمان ہے
دسمبر میں وہ یاد آیا اس طرح
نہ نیند آئی، نہ دل کو قرار ملا
دسمبر بھی کہتا ہے جاگ اے انسان
سردیوں میں بھی عشق کی آگ ہوتی ہے
دسمبر کی بارش نے سب کہہ دیا
یادیں بھیگ گئیں، دل بھیگ گیا
دسمبر آیا تو تنہائی بولی
تُو نہیں، پر تیری خوشبو ڈولی
دسمبر وقت کا آئینہ ہے
جو گزر گیا وہی اصل کہانی ہے
دسمبر آیا تو دل نے چراغ جلائے
ماضی کے زخموں نے خواب سنائے
دسمبر کی سردی میں تیری یاد آئی
کپکپاتے ہونٹوں پر تیری ہنسی چھائی
دسمبر بھی گزر جائے گا، غم نہ جائے گا
موسم بدلے گا، درد نہ بدلے گا
دسمبر کی شاموں میں پیغامِ سحر ہے
ہر یخ ہوا کے دل میں بھی شرر ہے
دسمبر کا ہر لمحہ خاموش گواہ ہے
تنہائی بھی محبت کی راہ ہے
دسمبر میں وہ چاند سا چہرہ یاد آیا
دل ٹوٹا مگر مسکرانا یاد آیا
دسمبر مایوسی نہیں، امتحان ہے
یہ سردی بھی ایمان کی پہچان ہے
دسمبر کے دنوں میں دل بھیگ گیا
کوئی یاد آیا یا خواب تھا
دسمبر آیا تو دل نے کہا آہستہ
سردی نہیں، محبت زندہ ہے
دسمبر کے لمحے تیرے لہجے جیسے لگے
ہر سانس میں پرانا وعدہ جاگا
برف پگھلی تو آنکھوں سے آنسو بہے
دسمبر میں یاد کچھ اس طرح آئی
دسمبر کی راتوں میں چاند مدھم ہوا
تیری مسکراہٹ سے سویرا ہوا
دسمبر کی بارش میں تیرا عکس بھیگا
میں خوابوں کے پنکھوں سے تجھے چھوتی رہی
محبت کا زخم دسمبر میں تازہ ہوا
چاندنی نے تیری باتیں دہرائیں
دسمبر آیا مگر تُو نہیں آیا
وقت رکا، محبت جاری رہی
سردیوں کی شام میں تیرا خیال آیا
چائے ٹھنڈی تھی، دل جل گیا
دسمبر کی ہوا میں جدائی کی شدت ہے
یہ وحشت بھی تیری یاد کی حدت ہے
دسمبر نے عمر کا آئینہ دکھایا
وقت برف ہے، پگھلتا ہے، بہتا نہیں
دسمبر کے دن دل پہ بوجھ رکھتے ہیں
یہ سردیاں محبت کا زہر پیتی ہیں
دسمبر آیا تو دل نے کہا
برف گرتی رہی، ہم خواب بنتے گئے
یہ دسمبر بھی وفاؤں کا گواہ ٹھہرا
زخموں پہ برف سا سکوت ٹھہرا
دسمبر کی راتیں قیامت ہیں
نہ چراغ جلے، نہ پیغام آیا
دسمبر کے سائے میں بیٹھے ہیں ہم
تیری خاموشی بھی کہانی بنی

دسمبر آیا تو وقت تھم سا گیا
ہم ہنسی سے درد میں ڈھل گئے
دسمبر کی رات میں تیرا نام لیا
سانسوں سے دھواں سا اٹھا
دسمبر کہتا ہے ٹھہرو ذرا
جو رکے وہ برف، جو چلے وہ بہار
دسمبر کی ہوا نے یاد دلا دیا
کچھ لوگ موسم نہیں، دل بدلتے ہیں
دسمبر کے دن گزر گئے، یاد باقی ہے
یہ زخم وقت کا نہیں، محبت کا ہے
میں نے دسمبر کو خاموش الوداع کہا
کہ تُو نہ سمجھے، میں اب بھی وہیں ہوں
دسمبر جاتا ہے، عشق رہتا ہے
دل کی آگ کبھی سرد نہیں ہوتی
الوداع دسمبر، تُو بھی بےوفا نکلا
تُو بھی گیا، وہ بھی گیا، ہم تنہا رہے
دسمبر گیا، کچھ زخم دے گیا
ہم نے الوداع کہا، وہ مسکرا گیا
کیسے رخصت کروں دسمبر تجھ کو
واپس آنے میں سال لگتا ہے
یہ سال بھی اداسیاں دے کر چلا گیا
تم سے ملے بغیر دسمبر چلا گیا
Conclusion
December poetry in Urdu beautifully captures the emotions that quietly surface at the end of the year, where memories feel heavier and silence speaks louder than words. Through two-line shayari, poets express love, separation, hope, and reflection with simplicity yet deep impact.
This collection reflects how December becomes more than a month, turning into a feeling that connects hearts across time. That is why December poetry remains timeless, relatable, and deeply cherished by readers who find their own stories within its verses.





