Badmashi poetry in Urdu is more than just attitude-filled words; it reflects confidence, self-respect, and a fearless mindset shaped by life experiences. This powerful form of shayari is especially popular among boys who believe in standing firm on their principles rather than following the crowd.
Whether it’s silence that speaks louder than noise or actions that replace empty promises, badmashi poetry delivers bold emotions with meaningful depth. From WhatsApp statuses to Instagram captions, this style of poetry has become a strong voice of modern attitude and desi swag.
بدماشی شاعری صرف رعب یا غصے کا اظہار نہیں بلکہ خودداری، حوصلے اور اصولوں پر جینے کا نام ہے۔ یہ شاعری ان لڑکوں کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے جو شور نہیں مچاتے بلکہ خاموشی سے اپنی پہچان بناتے ہیں۔ اردو بدماشی شاعری میں تجربہ، سچ اور زندگی کی تلخ حقیقتیں ایک مضبوط لہجے کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شاعری نوجوانوں میں اس قدر مقبول ہے کیونکہ اس میں دکھاوا نہیں بلکہ اصل کردار بولتا ہے۔
Badmashi Poetry in Urdu (Text & Copy Paste)
ہم نے خاموش رہ کر بھی تاریخ لکھی ہے،
شور کرنے والے صرف خبروں میں رہ گئے۔
ہمارے اصول ہی ہماری پہچان ہیں،
ورنہ نام تو ہر گلی میں بکھرے پڑے ہیں۔
جو نظر میں ٹھہر جائے وہی خطرہ بنتا ہے،
ہم گزر جائیں تو نشان چھوڑ جاتے ہیں۔
ہم کم بولتے ہیں مگر وزن کے ساتھ،
الفاظ ہمارے حساب مانگتے ہیں۔
عزت خریدی نہیں، کمائی جاتی ہے،
یہ سبق ہمیں سڑکوں نے سکھایا ہے۔
دشمنی بھی وقار سے کرتے ہیں،
اسی لیے انجام یادگار ہوتا ہے۔
ہم نے وقت کو دوست بنایا ہے،
اسی لیے حالات غلام ہیں۔
ہماری ہنسی بھی سوچ سمجھ کر آتی ہے،
کیونکہ انجام ہمیں معلوم ہوتا ہے۔
جو ہمیں کمزور سمجھے وہی ہارتا ہے،
یہی اصول ہماری فتح ہے۔
ہم الزاموں سے نہیں گھبراتے،
سچ ہمیشہ بھاری پڑتا ہے۔
راستے خود بنتے ہیں ہمارے لیے،
ہم ہجوم کے پیچھے نہیں چلتے۔
ہم بدنام سہی مگر بے اصول نہیں،
یہی فرق ہمیں الگ رکھتا ہے۔
آنکھیں جھکی ہوں تو مطلب کمزوری نہیں،
کبھی کبھی یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔
ہم نے ہار ماننا سیکھا ہی نہیں،
یا جیتتے ہیں یا سکھا دیتے ہیں۔
جو ہمیں آزمائے وہ سبق بن جائے،
ہم کتاب نہیں، تجربہ ہیں۔
ہمارا مزاج موسموں سے آزاد ہے،
ہم حالات کے مطابق نہیں ڈھلتے۔
ہم نے جلنا نہیں، جلانا سیکھا ہے،
مگر صرف وقت آنے پر۔
عزت سے جینے کا ہنر آتا ہے ہمیں،
اسی لیے سرخرو رہتے ہیں۔
ہم سایہ نہیں جو ڈھل جائیں،
ہم وہ دیوار ہیں جو وقت روکے۔
ہمارے خلاف بولنا آسان ہے،
سامنے آنا سب کے بس کی بات نہیں۔
ہم نے خوف کو شکست دی ہے،
اسی لیے لہجہ مضبوط ہے۔
دشمن بھی حساب رکھ کر بات کرتے ہیں،
یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ہم نے کم چیزوں پر قناعت سیکھی،
اسی لیے بڑے خواب دیکھے۔
ہم جہاں کھڑے ہوں،
وہیں معیار بدل جاتا ہے۔
بدماشی نام نہیں،
یہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے۔
Two Line Badmashi Poetry in Urdu
ہم اپنی حد میں رہتے ہیں،
اسی لیے دوسروں کی حد پار ہو جاتی ہے۔
ہم جھکتے نہیں حالات کے آگے،
یا تو وقت بدلتا ہے یا ہم۔
ہمارے لہجے میں سختی ہے،
کیونکہ سچ نرم نہیں ہوتا۔
ہم نے خاموشی کو ہتھیار بنایا ہے،
اسی لیے وار گہرا ہوتا ہے۔
جو ہمیں نظر انداز کرے،
ہم اسے یاد بنا دیتے ہیں۔
ہم بات وعدوں کی نہیں کرتے،
کام خود بولتا ہے۔
ہماری ضد بھی اصولوں پر ہوتی ہے،
اسی لیے جیت میں بدلتی ہے۔
ہم نے خود کو زمانے پر چھوڑ دیا،
زمانہ خود سمجھ گیا۔
ہم مقابلہ کسی سے نہیں کرتے،
ہم معیار سیٹ کرتے ہیں۔

ہماری انا شور نہیں کرتی،
یہ خاموشی سے حکومت کرتی ہے۔
ہم ہجوم کا حصہ نہیں،
ہم راستہ ہیں۔
دشمنی بھی سوچ سمجھ کر کرتے ہیں،
کیونکہ انجام ہمیں یاد رہتا ہے۔
ہم نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے،
اسی دن سے جینا شروع کیا ہے۔
ہمارا اعتماد ہماری پہچان ہے،
نام بعد میں آتا ہے۔
ہم وقت پر جواب دیتے ہیں،
الفاظ ضائع نہیں کرتے۔
ہم نے شکست کو بھی استاد مانا،
اسی لیے آگے نکل گئے۔
ہماری نظر نیچی ہو سکتی ہے،
ارادہ نہیں۔
ہم خود سے ہارتے نہیں،
یہی ہماری جیت ہے۔
ہم وعدہ کم کرتے ہیں،
مگر پورا ضرور کرتے ہیں۔
ہم بولیں تو دلیل کے ساتھ،
ورنہ خاموشی ہی کافی ہے۔
ہم نے اصول بیچنے سے انکار کیا،
اسی لیے قیمت بڑھی ہے۔
ہماری دوستی نعمت ہے،
دشمنی آزمائش۔
ہم نام نہیں بناتے،
نام خود بن جاتا ہے۔
ہم خطرہ نہیں،
انتباہ ہیں۔
ہم جیسا بننے میں وقت لگتا ہے،
اسی لیے نقل ناکام رہتی ہے۔
Badmashi Poetry in Urdu SMS & WhatsApp Status
ہم آن لائن کم،
میدان میں زیادہ ہوتے ہیں۔
ہمارا اسٹیٹس نہیں بدلتا،
مخالف بدل جاتے ہیں۔
ہم جو ہیں،
وہ دکھاوے سے باہر ہے۔
ہمارے نام پر بحث ہوتی ہے،
یہی کافی ہے۔
ہم نظر میں کم،
اثر میں زیادہ ہیں۔
ہم خود کو ثابت نہیں کرتے،
وقت خود کر دیتا ہے۔
ہماری خاموشی اسٹیٹس نہیں،
پیغام ہے۔
ہم نے سادہ رہنا سیکھا ہے،
کمزور نہیں۔
دشمن بلاک میں نہیں،
حساب میں رکھتے ہیں۔
ہم کم دکھتے ہیں،
زیادہ یاد رہتے ہیں۔
ہمارا موڈ نہیں بدلتا،
لوگ بدل جاتے ہیں۔
ہم نے بھیڑ سے الگ رہنا سیکھا،
اسی لیے پہچان بنی۔
ہم لفظوں سے نہیں،
عمل سے بات کرتے ہیں۔
ہماری ہنسی فلٹر نہیں،
انتباہ ہے۔
ہم جواب دیر سے دیتے ہیں،
مگر یادگار۔
ہم شور نہیں مچاتے،
اثر چھوڑتے ہیں۔
ہم ہر کسی کو رسائی نہیں دیتے،
یہی اصول ہے۔
ہم جیسے ہیں ویسے ہی ہیں،
یہی مسئلہ ہے لوگوں کا۔
ہم نے وقت کو آن لائن نہیں چھوڑا،
اسی لیے آگے ہیں۔
ہم نے خود کو بدلنے سے انکار کیا،
زمانہ بدل گیا۔
ہم حد میں رہتے ہیں،
پر کم نہیں۔
ہم نے آسان راستے چھوڑ دیے،
اسی لیے مضبوط ہیں۔
ہم اسٹیٹس نہیں،
معیار ہیں۔
ہم نے وضاحت دینا چھوڑ دی،
نتیجہ بہتر ہوا۔
ہم یہاں دکھنے نہیں،
یاد رہنے آئے ہیں۔
Attitude Boys Badmashi Poetry
ہم نے انا کو تربیت دی ہے،
اسی لیے بغاوت مہذب ہے۔
ہم خود پر یقین رکھتے ہیں،
لوگوں کی رائے ثانوی ہے۔
ہمارا رویہ حالات سے نہیں بدلتا،
یہ کردار سے بنتا ہے۔
ہم کم بولتے ہیں مگر صاف،
دوغلا پن ہمیں نہیں آتا۔
ہم نے اپنی قدر خود رکھی ہے،
اسی لیے سودے نہیں ہوتے۔
ہم سر جھکاتے نہیں،
سلام لیتے ہیں۔
ہم مقابلہ نہیں کرتے،
ہم معیار ہیں۔
ہمارا اعتماد چیختا نہیں،
خاموشی سے جیتتا ہے۔
ہم نے خود کو سمجھ لیا،
اب کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔
ہم اپنی جگہ مضبوط ہیں،
اسی لیے حرکت نہیں کرتے۔
ہم انا نہیں،
خودداری رکھتے ہیں۔
ہم سادگی میں بھی نمایاں ہیں،
یہی اصل اسٹائل ہے۔
ہم دوسروں کو نیچا نہیں دکھاتے،
خود اونچے رہتے ہیں۔
ہم ردعمل نہیں دیتے،
فیصلہ کرتے ہیں۔

ہمارا رویہ آئینہ ہے،
جیسا سامنے ہو ویسا واپس۔
ہم نے بھیڑ میں رہنا چھوڑ دیا،
اسی دن الگ پہچان بنی۔
ہم حد میں رہ کر بھی خطرہ ہیں،
یہی اصل بات ہے۔
ہم نے وقت ضائع نہیں کیا،
اسی لیے آگے ہیں۔
ہم لفظوں کے غلام نہیں،
عمل کے قائل ہیں۔
ہم نے خود کو چھوٹا نہیں سمجھا،
اسی لیے بڑے بنے۔
ہم نے کم پر راضی ہونا سیکھا،
اسی لیے زیادہ ملا۔
ہم غرور نہیں کرتے،
ہم حقیقت ہیں۔
ہم اپنی خاموشی سے پہچانے جاتے ہیں،
شور کی ضرورت نہیں۔
ہم خود کو بدلنے نہیں آئے،
معیار بنانے آئے ہیں۔
ہم نے رویہ نہیں بدلا،
لوگوں کی سمجھ بدل گئی۔
Badmash Dosti Shayari in Urdu
ہماری دوستی شرطوں پر نہیں،
بھروسے پر چلتی ہے۔
ہم یاری میں حساب نہیں رکھتے،
بس دل رکھتے ہیں۔
دوست کم ہیں مگر اصلی،
یہی ہماری طاقت ہے۔
ہم دوستوں کے لیے وقت نکالتے ہیں،
بہانے نہیں۔
ہماری دوستی مشہور نہیں،
مضبوط ہے۔
ہم مشکل میں ساتھ پہچانے جاتے ہیں،
محفل میں نہیں۔
دوست پر آنچ آئے تو خاموشی ٹوٹتی ہے،
ورنہ سکون ہے۔
ہم یاری نبھاتے ہیں دکھ میں،
خوشی تو سب کی ہوتی ہے۔
ہماری دوستی آزمائشوں سے گزری ہے،
اسی لیے پکی ہے۔
ہم دوست بدلنے والوں میں سے نہیں،
ہم نبھانے والوں میں سے ہیں۔
دوست ہمارا کمزور پہلو ہیں،
اسی لیے خطرناک بھی۔
ہم دوستی میں وفاداری دیتے ہیں،
بدلے میں عزت چاہتے ہیں۔
ہماری یاری دکھاوے سے دور ہے،
دل کے قریب ہے۔
ہم دوست کے لیے حد پار کر سکتے ہیں،
لیکن بے اصول نہیں۔
ہماری دوستی وقت پر کام آتی ہے،
بس باتوں میں نہیں۔
ہم دوستوں کو آزمانے کے قائل نہیں،
قبول کرنے کے عادی ہیں۔
ہماری یاری میں مقابلہ نہیں،
اعتماد ہوتا ہے۔
ہم دوست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،
سامنے یا پیچھے نہیں۔
ہم نے یاری میں مفاد نہیں رکھا،
اسی لیے سکون ہے۔
ہماری دوستی مشورہ دیتی ہے،
حکم نہیں۔
ہم دوستوں کی خاموشی بھی سمجھتے ہیں،
یہی اصل رشتہ ہے۔
ہماری یاری وقت کے ساتھ بڑھتی ہے،
کم نہیں ہوتی۔
ہم دوست کے لیے نام نہیں مانگتے،
بس ساتھ چاہتے ہیں۔
ہماری دوستی کم لفظوں میں ہے،
زیادہ عمل میں۔
ہم یار بدلتے نہیں،
وقت بدل جاتا ہے۔
Badmashi Poetry for School & College Boys
ہم شرارتی ضرور ہیں،
مگر بے مقصد نہیں۔
کلاس میں خاموش،
زندگی میں حاضر جواب۔
ہم نے دوستی نصاب سے باہر سیکھی،
اسی لیے سچی ہے۔
استاد ناراض ہوں یا راضی،
اصول ایک جیسے ہیں۔
ہم نے غلطیوں سے سیکھا ہے،
اسی لیے آگے ہیں۔
کالج نے ہمیں صرف ڈگری نہیں دی،
سمجھ بھی دی ہے۔
ہم شرارت میں حد رکھتے ہیں،
یہی فرق ہے۔
ہم نے مقابلہ خود سے رکھا،
اسی لیے بہتر ہوئے۔
امتحان میں نمبر کم ہوں،
حوصلہ نہیں۔
ہم نے کتابوں کے ساتھ زندگی پڑھی ہے،
اسی لیے مکمل ہیں۔
دوستوں کے بغیر کالج ادھورا ہے،
یہ ہم مانتے ہیں۔
ہم نے جوانی کو ضائع نہیں کیا،
تجربہ بنایا ہے۔
ہم غلطی مان لیتے ہیں،
یہی اصل جیت ہے۔
ہم نے وقت پر سنجیدہ ہونا سیکھا،
اسی لیے شرارت خوب کی۔
ہم نے خود کو پہچانا،
اسی دن آگے بڑھے۔
کالج کے دن ہمیں آزاد کرتے ہیں،
گمراہ نہیں۔
ہم نے احترام سیکھا ہے،
ڈر نہیں۔
ہم دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں،
اسی لیے مضبوط ہیں۔
ہم نے اپنی لائن خود کھینچی،
اسی لیے الگ ہیں۔
ہم نے ہنسی میں بھی سبق لیا،
یہی اصل تعلیم ہے۔
ہم نے اپنی قدر کلاس سے باہر جانی،
اسی لیے اندر بھی ملی۔
ہم نے خواب بڑے رکھے،
اسی لیے نیند کم آئی۔
ہم نے مقابلہ نقل سے نہیں،
محنت سے کیا۔
ہم نے وقت پر رکنا بھی سیکھا،
یہی سمجھداری ہے۔
ہم نے جوانی کو سنبھالا ہے،
ضائع نہیں کیا۔
Best Badmash Shayari for Boys
ہم نے اپنی پہچان خود بنائی،
وراثت پر نہیں چلے۔
ہم نے خودداری کو ترجیح دی،
سہولت کو نہیں۔
ہم نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا،
اسی لیے راستہ کٹھن تھا۔
ہم نے خود کو آزمایا ہے،
زمانے کو نہیں۔
ہم نے خاموشی کو طاقت بنایا،
کمزوری نہیں۔
ہم نے اپنی قیمت خود لگائی،
بازار سے نہیں پوچھی۔
ہم نے وقت پر انکار سیکھا،
اسی لیے محفوظ ہیں۔
ہم نے خود کو ثابت نہیں کیا،
بس قائم رکھا۔
ہم نے اپنا دائرہ خود بنایا،
اسی لیے آزاد ہیں۔
ہم نے خود کو سنبھالا،
یہی سب سے بڑی فتح ہے۔
ہم نے عزت مانگی نہیں،
کمائی ہے۔
ہم نے خود پر یقین رکھا،
یہی کافی تھا۔
ہم نے خود کو بدلا نہیں،
نکھارا ہے۔
ہم نے خوف کو سلام نہیں کیا،
الوداع کہا ہے۔
ہم نے وقت کی قدر کی،
اسی لیے آگے ہیں۔
ہم نے اپنی لائن نہیں چھوڑی،
اسی لیے نمایاں ہیں۔
ہم نے خود کو کم نہیں سمجھا،
اسی دن سے بڑے ہیں۔
ہم نے معیار گرایا نہیں،
چاہے اکیلے رہے۔
ہم نے خود کو وقت دیا،
لوگ خود مل گئے۔
ہم نے اپنی جنگ خود لڑی،
اسی لیے مضبوط ہیں۔
ہم نے راستہ نہیں بدلا،
منزل بدل گئی۔
ہم نے خود کو پہچانا،
یہی اصل کامیابی ہے۔
ہم نے خودداری کو سجا کر رکھا،
اسی لیے وقار ہے۔
ہم نے خود کو آزاد رکھا،
یہی اصل دولت ہے۔
ہم نے خود کو ہارا نہیں،
یہی ہماری جیت ہے۔
Gangster Mood Badmash Poetry
ہم اندھیرے میں بھی راستہ جانتے ہیں،
اسی لیے خوف نہیں۔
ہم نے خطرے کو عادت بنا لیا،
اسی لیے پرسکون ہیں۔
ہم قانون سے باہر نہیں،
اپنے اصولوں کے اندر ہیں۔
ہم نے خاموشی کو ڈھال بنایا،
اسی لیے محفوظ ہیں۔
ہم نے سایوں سے دوستی کی ہے،
اسی لیے نظر آتے نہیں۔
ہم نے وقت پر وار سیکھا ہے،
بے وجہ نہیں۔
ہم نے دشمن کو نظر میں رکھا،
دل میں نہیں۔
ہم نے صبر کو ہتھیار بنایا،
اسی لیے مہلک ہیں۔
ہم نے کمزور لمحے چھپا لیے،
طاقت دکھائی نہیں۔
ہم نے جنگ چنی ہے،
شور نہیں۔
ہم نے اپنے دائرے میں حکومت کی،
شہر کی نہیں۔
ہم نے اصولوں پر خطرہ لیا،
اسی لیے اثر ہے۔
ہم نے انجام پہلے سوچا،
پھر قدم اٹھایا۔
ہم نے اپنی حد خود مقرر کی،
اسی لیے آزاد ہیں۔
ہم نے دشمن کو وقت دیا،
خود کو نہیں۔
ہم نے خاموش رہ کر سبق دیا،
یہی اصل طاقت ہے۔
ہم نے خوف کو دیکھا ہے،
مانا نہیں۔
ہم نے اپنا کھیل خود لکھا،
اسی لیے جیتے۔
ہم نے زبان کم،
نیت مضبوط رکھی۔
ہم نے راستہ نہیں پوچھا،
نشان چھوڑے۔
ہم نے اپنے اصول نہیں بیچے،
اسی لیے خطرناک ہیں۔
ہم نے دھمکی نہیں دی،
عمل کیا۔
ہم نے اپنی جنگ خود لڑی،
یہی اصل گینگ ہے۔
ہم نے انجام پر یقین رکھا،
اسی لیے صبر ہے۔
ہم نے خود کو سنبھالا،
اسی لیے شہر سنبھلا۔
Badmash Poetry with Killer Smile
ہماری مسکراہٹ سوال نہیں،
جواب ہوتی ہے۔
ہم ہنستے ہیں تو لوگ سوچتے ہیں،
یہی اصل اثر ہے۔
ہماری ہنسی میں حساب چھپا ہے،
یہ سب نہیں سمجھتے۔
ہم مسکرا کر بات ختم کرتے ہیں،
یہی ہمارا انداز ہے۔
ہماری مسکراہٹ نرم ہے،
مگر ارادہ سخت۔
ہم ہنسی میں بھی سنجیدہ ہیں،
یہی فرق ہے۔
ہماری مسکان حد سے گزر جائے،
تو فیصلہ بن جاتی ہے۔
ہم ہنستے کم ہیں،
اسی لیے یاد رہتے ہیں۔
ہماری مسکراہٹ دوستی بھی ہے،
انتباہ بھی۔
ہم نے ہنسی کو کنٹرول میں رکھا،
اسی لیے خطرناک ہے۔
ہماری ہنسی کمزوری نہیں،
اعتماد ہے۔
ہم مسکرا کر خاموش ہو جائیں،
تو بات ختم۔
ہماری مسکان میں وقت کا وزن ہے،
اسی لیے اثر ہے۔
ہم نے ہنسی میں راز رکھے ہیں،
اسی لیے گہری ہے۔
ہماری مسکراہٹ فیصلے بدل دیتی ہے،
یہ سب جانتے ہیں۔
ہم ہنسی بکھیرتے نہیں،
استعمال کرتے ہیں۔
ہماری مسکراہٹ آخری اشارہ ہوتی ہے،
اس کے بعد خاموشی۔
ہم نے ہنسی کو ہتھیار بنایا،
اسی لیے کارگر ہے۔
ہماری مسکان دیکھ کر لوگ رک جاتے ہیں،
یہی مقصد ہے۔
ہم مسکرا کر بھی خطرہ بن سکتے ہیں،
یہی اصل فن ہے۔
ہماری ہنسی میں بھی وقار ہے،
یہی اصل اسٹائل ہے۔
ہم مسکرا کر بات بدل دیتے ہیں،
یہی طاقت ہے۔
ہماری مسکان کم،
اثر زیادہ ہے۔
ہم ہنسی میں بھی سچ بولتے ہیں،
اسی لیے گہری لگتی ہے۔
ہماری مسکراہٹ یاد رہتی ہے،
ہم نہیں۔
Conclusion
Badmashi poetry in Urdu represents a complete attitude — calm, fearless, and self-made — that resonates deeply with boys who value respect over popularity. These shayari lines are not about violence or arrogance, but about confidence, boundaries, loyalty, and inner strength expressed through powerful words.
Whether you are looking for attitude shayari for social media, motivation, or personal expression, this collection of 200+ badmashi poetry captures the true essence of modern desi swagger with meaningful depth and timeless impact.





