Allama Iqbal’s poetry is not merely a collection of verses; it is a powerful intellectual movement that awakens the soul and challenges the mind. His words inspire courage, ignite self-belief, and remind readers of their spiritual and moral responsibilities. Even decades later, Iqbal’s poetry continues to resonate with readers across generations.
What makes Iqbal unique is his ability to blend philosophy, spirituality, and action into poetic form. His verses are deeply rooted in faith while addressing real social and political struggles. This timeless relevance is why Allama Iqbal’s Urdu poetry remains widely read, quoted, and taught today.
Who Was Allama Iqbal and Why His Poetry Matters
Allama Muhammad Iqbal, born on November 9, 1877, in Sialkot, was a philosopher, poet, lawyer, and political thinker who played a vital role in shaping Muslim intellectual thought. He received his education in India, England, and Germany, which allowed him to combine Eastern spirituality with Western philosophy in a unique and powerful way.
Iqbal’s poetry matters because it goes beyond aesthetics and delivers a message of self-realization, unity, and moral revival. He used poetry as a tool to awaken the Muslim Ummah, urging individuals to rise above fear, stagnation, and blind imitation. His ideas later became the intellectual foundation for the Pakistan Movement.
Inspirational Allama Iqbal Poetry in Urdu
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
یہی آئینِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ حق میں زندہ، وہی فاتح ہے آخرکار
فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک
رکھتی ہے مگر طاقتِ پرواز مری خاک
بندگی کے عوض فردوس ملے
یہ بات مجھے منظور نہیں
اے طائرِ لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
Famous Allama Iqbal Shayari Loved Worldwide
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
یہی دستورِ زباں بندی ہے تو اے بزمِ جہاں
یا مجھے کہہ دے کہ خاموش، یا مجھے دیوانہ کر
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمیں سے آسماں تک کا فسانہ ہو گیا
جنہیں تو نے سمجھا فلک کی رفعتیں
وہ ہیں بس جلتے بجھتے شرارے
میں نہ توحید کا قائل ہوں نہ شرک کا
دل کو روشن رکھنا ہی اصل عبادت ہے
Allama Iqbal Poetry for Students and Youth
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سرِ زندگانی ہے
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جو جوانوں کو سکھا دے شاہینی
وہی ہے قوم کا اصل سرمایہ
ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
میرا عشق، میری نظر بخش دے
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہٰ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
جو دل میں ہو لا الہٰ تو کیا خوف
تعلیم ہو اگرچہ فرنگیانہ
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی لگن
وہی زندہ ہے زمانے میں حقیقت کی قسم
اقبال کا پیغام ہے ہر نوجوان کے نام
خودی کو پہچان، یہی ہے تیرا مقام
Islamic and Spiritual Poetry of Allama Iqbal
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہی ہے عبادت، یہی ہے دین و ایماں
کہ کام آئے انسان کے انسان
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہٰ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

مٹا دی اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار بنتا ہے
جو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبالؔ
بلا کے دیر سے مجھ کو امام کرتے ہیں
سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
بندگی کے عوض فردوس ملے
یہ بات مجھے منظور نہیں
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن
دل کی آزادی سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں
یہی سبق ہے ہمیں مصطفیٰ ﷺ کی سیرت سے
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن، وہی فرقان، وہی یاسین و طٰہٰ
Allama Iqbal Poetry on Nation, Identity, and Pakistan
اِن تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے
غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبوی ہے
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے، تو مصطفوی ہے
ہو قیدِ مقامی تو نتیجہ ہے تباہی
رہ بحر میں آزادِ وطن صورتِ ماہی
گفتارِ سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشادِ نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے
اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے
قومیتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے
نظّارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی! خاک میں اس بت کو ملا دے
وطن کی فکر کر ناداں، مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے
اُٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسمان کے لیے
Love and Philosophical Poetry by Allama Iqbal
محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
عشق دمِ جبرئیلؑ، عشق دلِ مصطفیٰ ﷺ
عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام
عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اوّلیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدۂ تصورات
یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآن، وہی فرقان، وہی یٰسین و طٰہٰ
عشق تری انتہا، عشق مری ابتدا
تو بھی ابھی ناتمام، میں بھی ابھی ناتمام
عشق سکوں بھی ہے، اضطراب بھی ہے
یہی حیات، یہی انقلاب بھی ہے

دل کی اگر آزادی ہو تو عشق ہے
قید میں رہ جائے تو محض خواب بھی ہے
عشق نے اقبالؔ کو دیا یہ سبق
خودی میں چھپی ہے ہر معراج بھی ہے
عشق نہ ہو تو زندگی فقط اک بوجھ ہے
عشق ہو تو یہی زندگی ایک موج ہے
عشق خدا کا راز ہے سینے کے نہاں خانے میں
عقل بھٹکتی رہتی ہے جس کے فسانے میں
عشق کی ایک جست نے طے کر دیا صدیوں کا سفر
عقل ابھی تک سوچ میں گم ہے، کیا تھا کیا ہو گیا
یہ عشق ہی ہے جو خاک کو زر بناتا ہے
ورنہ انسان کو مٹی میں ملاتا ہے
عشق کی ضرب سے دل زندہ ہوا
ورنہ سینے میں فقط گوشت کا ٹکڑا تھا
اقبالؔ کا فلسفہ یہی عشق سکھاتا ہے
جو خود سے ملا، وہی خدا کو پاتا ہے
Youth Inspiration (پیغامِ خودی و نوجوان)
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
نہیں ہے تجھے فرصتِ شکست و مات
کہ زمانہ ہے منتظر تیری ذات
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق، میری نظر بخش دے
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیریؓ
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
نوجوانوں کی بیداری ہے قوموں کی حیات
سوئے ہوئے دلوں میں یہی ہے نجات
خودی کو کر بلند، اے نوجوان
یہی تیرے مقدر کا ہے نشان
جوانوں میں ہے سوزِ جستجو اگر
بدل جاتا ہے تاریخ کا سفر
عمل سے ہی بنتی ہے پہچان تری
نسب، نام، لقب سب بے اثر
تو رازِ کن فکاں ہے، سمجھ خود کو
زمانہ تیرے اشارے کا منتظر
نہ ڈر زمانے کی سازشوں سے
خدا خود ہے محافظ تیرے عزم کا
جوان کی نیند قوم کی موت ہے
جوان کی بیداری حیات ہے
اقبالؔ کا پیغام ہے نوجوان کے نام
خودی میں ڈھونڈ اپنی تمام راہیں
جو وقت کی آنکھ میں آنکھ ڈالے
وہی ہے اصل مردِ میدان
Motivational Verses (حوصلہ، عمل اور انقلاب)
نہیں ہے نااُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
خودی کی آگ میں جل کر نکھر جا
کہ سونا بھی کسوٹی مانگتا ہے
زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے
جنوں کو بھی ذرا پہچان لینا

جو کرے گا امامت کا حق ادا
وہی ہوگا زمانے کا رہنما
خودی وہ راز ہے جس سے تقدیر بدلتی ہے
یہی وہ آگ ہے جو راکھ کو گل کرتی ہے
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
نہ ہو طغیانِ مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی
کہ موجوں میں ہے دریا کی حیاتِ جاودانی
جس دل میں ہو ولولۂ تازہ
وہی بدلتا ہے نقشِ جہاں
عمل کی راہ میں جو رکا
وہی رہ گیا قافلے سے جدا
حوصلہ ہو تو مشکل بھی راہ دیتی ہے
ورنہ آسانی بھی امتحان بن جاتی ہے
اقبالؔ کا سبق یہی ہے بار بار
اٹھ کہ وقت تجھے پکارے ہے
جو خود کو پہچان لے، وہی فاتحِ زمانہ
یہی ہے زندگی کا اصل فسانہ
Faith & Spirituality (ایمان، دعا اور معرفت)
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دل میں خدا کا ہونا لازم ہے اقبالؔ
سجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
نماز عشق کی ہے، وضو دل کا ہونا
یہی ہے بندگی، یہی ہے خدا کو پانا
یقین محکم اگر ہو دل کے اندر
تو بدل جاتے ہیں پتھر بھی جواہر
ایمان کی حرارت سے دل زندہ رکھ
یہی ہے زندگی، یہی بندگی
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں
بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
اصل عبادت ہے خدمتِ خلق
یہی ہے سجدہ، یہی ہے رکوع
ایمان فقط لفظوں کا نام نہیں
یہ کردار میں ڈھلا ہوا یقین ہے
جو دل خدا سے جڑ گیا
وہی ہر خوف سے بچ گیا
عبادت میں بھی ہو اگر سودا
تو وہ عبادت نہیں تجارت ہے
فقیری میں چھپی ہے شاہی
یہی ہے سنتِ مردانِ حق
ایمان وہ قوت ہے اقبالؔ
جو انسان کو خدا شناس بنائے
خدا کو پا لیا جس نے خودی میں
وہی ہے اصل میں صاحبِ یقیں
Frequently Asked Questions
Why is Allama Iqbal poetry still relevant today?
Iqbal’s poetry remains relevant because it addresses timeless themes such as self-identity, faith, freedom, and moral courage.
Which Allama Iqbal poetry is best for motivation?
Poetry centered on Khudi, youth awakening, and action, such as verses from Bang-e-Dara and Baal-e-Jibreel, is highly motivational.
Is Allama Iqbal poetry suitable for students?
Yes, Iqbal’s poetry is ideal for students as it encourages critical thinking, confidence, discipline, and purpose in life.
Where can I use Allama Iqbal poetry for social media?
Allama Iqbal’s short couplets can be effectively used on Instagram, Facebook, WhatsApp status, and educational posts.
What is the main theme of Iqbal’s Urdu poetry?
The central theme of Iqbal’s Urdu poetry is self-realization, spiritual awakening, unity of the Ummah, and transformative action.
Conclusion
Allama Iqbal’s poetry is a guiding force that continues to inspire minds and shape character. His verses challenge individuals to discover their inner strength and reconnect with higher moral values. In a world facing confusion and moral decline, Iqbal’s message offers clarity and direction. This enduring relevance ensures that Allama Iqbal’s poetry will remain meaningful for generations to come.





