90+ Poetry On Teacher In Urdu By Allama Iqbal – Heart Touching Lines

90+ Poetry On Teacher In Urdu By Allama Iqbal – Heart Touching Lines

User avatar placeholder
Written by Hayyat

January 11, 2026

Allama Iqbal viewed the teacher not as a mere transmitter of information, but as the true architect of a nation’s soul. In his philosophy, education is not limited to books, degrees, or rote learning; rather, it is a powerful force that awakens khudi, builds character, and gives direction to life. 

A teacher, according to Iqbal, shapes destinies by nurturing courage, vision, and moral strength in young minds. Through his timeless poetry, Iqbal presents the teacher as a guide who transforms ordinary students into fearless thinkers and leaders of tomorrow.

Iqbal’s verses on teachers are deeply emotional, spiritual, and revolutionary. They challenge superficial education systems and emphasize inner awakening over outward knowledge. His poetry reminds us that nations rise or fall based on how their teachers educate the soul, not just the intellect. 

This collection brings together heart-touching lines that reflect Iqbal’s powerful message about the sacred role of teachers. Each couplet echoes his dream of an education system rooted in purpose, self-respect, and divine consciousness.

اقبال کے نزدیک استاد محض علم دینے والا نہیں بلکہ قوم کا معمار ہوتا ہے۔ وہ تعلیم کو صرف کتابوں اور امتحانات تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ اسے روح کی بیداری اور خودی کی تعمیر کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ اقبال کی شاعری میں استاد وہ ہستی ہے جو بچوں کو غلامی کی سوچ سے نکال کر آزادی، جرأت اور بلند پروازی سکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں استاد کا مقام نہایت بلند اور ذمہ داری بے حد عظیم نظر آتی ہے۔

اقبال کی شاعری نظامِ تعلیم پر گہری تنقید بھی کرتی ہے اور ایک اعلیٰ تعلیمی تصور بھی پیش کرتی ہے۔ وہ ایسے استاد کی خواہش رکھتے ہیں جو صرف نصاب نہ پڑھائے بلکہ کردار، غیرت اور عشقِ حق کو بھی پروان چڑھائے۔ ان کے اشعار دل کو چھو لینے والے ہیں کیونکہ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قوموں کی تقدیر درسگاہوں میں ہی لکھی جاتی ہے۔ یہی کلام آج بھی استاد اور شاگرد دونوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

Poetry On Teacher In Urdu By Allama Iqbal

استادِ کامل وہ جو روح میں اُبھارے نور
خاک سے اٹھا دے بچوں کو، بنائے شاہینِ دور

مکتبِ حیات میں استاد ہے ستونِ اوّل
جو خودی جگا دے دل میں، نہ ڈگمگائے ہر پل

تربیتِ فرد سے قوم پاتی ہے اوجِ کمال
استاد بنے راہبر، نہ رہے محض اہلِ مقال

عشقِ حق کا درس ہو مکتب کا اصل گوہر
ورنہ علم بے نور ہے، بن جائے بوجھِ بشر

عالمِ حقیقی وہ جو روح کو دے پرواز
زمین کی قید توڑے، شاہین بنائے ہر ساز

اہلِ دانش بہت ہیں، اہلِ نظر ہیں کم
استاد وہی کامل ہے جو دے بصیرت ہم دم

خودی کی شمع جلائے ہر بچے کے دل میں
غلامی مٹ جائے، آزادی ہو حاصل سب میں

مکتب اگر روح سے خالی، تعلیم بے اثر
لفظوں کے انبار سے نہیں بنتا کوئی سفر

استاد وہ نہیں جو صرف کتاب پڑھائے
استاد وہ جو زندگی کا ہنر سکھائے

جو استاد خود بے خودی میں ڈوبا رہے
وہ قوم کو بیداری کا کیا پیغام دے

دل میں کشادگی لائے، فکر کو دے وسعت
تبھی بجلی کا چراغ دے گا راہوں کو حرارت

علم اگر کردار نہ بنے تو فتنہ ہے
استاد کی پہچان اس کی تربیت ہے

شیخِ مکتب اگر شاہین کی پرواز بھول جائے
تو بچے عمر بھر خاک میں ہی رہ جائیں

استاد ہے معمارِ انسان، یہ راز جان
اینٹ اینٹ سے بنتی ہے قوم کی شان

مکتب میں ہو اگر عشقِ رسولؐ کی خوشبو
تو نکلیں وہاں سے امام، نہ غلامِ اردو

جو دل میں حوصلہ ڈالے، وہی استاد ہے
جو خوف مٹا دے، وہی فریاد ہے

استاد کی نگاہ اگر بلند ہو
تو شاگرد کی سوچ بھی آسمان بند ہو

تربیتِ نفس کا راز جس نے پا لیا
اس نے زوال پذیر قوم کو اٹھا لیا

استاد اگر مرشد بن جائے زمانے میں
انقلاب آ جاتا ہے ایک اشارے میں

یہی ہے اقبال کا خوابِ تعبیر
استاد بنے قوم کی اصل تقدیر

Poetry On Teacher In Urdu By Allama Iqbal Copy Paste

شکایت ہے مجھے یا رب خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا

شیخِ مکتب ہے ایک عمارت گر
جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

کیا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صبا سے بھی نہ ملی تجھ کو بوئے گل کی ہوا

اہلِ دانش عام ہیں، اہلِ نظر نایاب
استاد وہی ہے جو کھول دے دل کا باب

کتابوں کا ہے شور، مگر دل ہے خاموش
استاد اگر جاگے تو جاگے ہر گوش

مکتب کے طریقوں سے کشادِ دل کہاں
کبریت سے کب روشن ہوا بجلی کا جہاں

استاد کا منصب ہے کردار سازی
نہ صرف عبارت، نہ فقط لفظ بازی

Poetry On Teacher In Urdu By Allama Iqbal Copy Paste

علم اگر روح کو نہ چھو سکے
تو وہ علم نہیں، بوجھ ہی کہلائے

استاد بنے اگر بازار کا تاجر
تو شاگرد بھی بن جائے فکر کا مسافر

مروت حسنِ عالم گیر ہے مردانِ غازی کا
یہ سبق استاد دے تو بدل جائے نقشہ دنیا کا

شمشیر بھی فتنہ، نعرہ بھی فتنہ
اگر استاد نہ دے حکمت کا رستہ

دل میں شان، دنیا میں امامت
یہ استاد ہی دیتا ہے قوم کو قیادت

مکتب اگر مقصد سے خالی ہو
تو تعلیم بھی زہرِ ہلاہل ہو

استاد کا ایک لمحہ اثر رکھتا ہے
صدیاں بنتی ہیں اس کے عمل سے

جو استاد خوف سے آزاد ہو
وہی شاگرد کو آزاد کرے

لفظوں کی قید سے نکل کر دیکھ
استاد وہی ہے جو زندگی سکھائے

خودی کے راز جو نہ سمجھا
وہ استاد نہیں، محض قاری نکلا

استاد ہے وقت کا نبی
قوم کی تقدیر اسی سے جڑی

کتاب اگر دل تک نہ جائے
تو علم سر سے نیچے نہ آئے

یہی ہے اقبال کی صدائے بلند
استاد ہو باطن کا چراغِ پسند

Poetry On Teacher In Urdu By Allama Iqbal Text

استاد وہ جو خودی کی بنیاد رکھے
فرد کو بنا دے امت کا سہارا

مکتب اگر روح سے خالی رہا
تو قوم نے زوال ہی پایا

عالمِ دینی وہ جو عشق سکھائے
لفظوں میں نہیں، عمل میں دکھائے

استاد کا کام ہے سوچ جگانا
نہ کہ رٹے ہوئے سبق دہرانا

اگر استاد خود غلامِ فکر ہو
تو شاگرد کیسے آزاد ہو

خودی کی تعمیر ہے اصل تعلیم
باقی سب ہے وقت کی تقسیم

استاد وہ جو سوال پیدا کرے
غلام ذہنوں کو آزاد کرے

مکتب ہو اگر زندگی کا درسگاہ
تو نکلے وہاں سے مردِ حق گواہ

علم اگر عمل نہ بنے
تو وہ علم وبالِ جان بنے

استاد وہ جو خوف مٹا دے
دل میں یقین کی شمع جلا دے

مکتب کی خاموش دیواریں
استاد کی صدا سے بول اٹھیں

استاد ہے قوم کی سانس
اس کے بغیر سب بے احساس

جو استاد خود آگاہ نہیں
وہ شاگرد کو کیا راہ دے

تعلیم اگر صرف نوکری تک ہو
تو قوم غلامی میں ہی ہو

استاد کی نظر میں ہو خدا
تبھی شاگرد بنے باوفا

مکتب کا مقصد ہو انسان سازی
نہ کہ صرف سند کی بازی

استاد اگر خواب دکھائے
تو شاگرد تاریخ بنائے

علم ہو اگر خودی کا چراغ
تو مٹے جہالت کے سب داغ

استاد کا مقام ہے سب سے جدا
وہی ہے قوم کا اصل خدا داد عطا

یہی ہے اقبال کا پیغامِ خاص
استاد بنے مردِ قیاس

Poetry On Teacher In Urdu By Allama Iqbal 2 Lines

استاد وہی جو دل میں اُتار دے نور
ورنہ تعلیم ہے محض لفظوں کا شور

خودی کا سبق دے جو استاد
وہی قوم کو کرتا ہے آزاد

کتابیں بہت، مگر دل ویران
استاد بنے تو بدلے جہان

مکتب میں اگر عشق نہ ہو
تو علم بھی بے ذوق ہو

استاد کی نظر ہو اگر بلند
تو شاگرد کی پرواز ہو ابد

علم اگر کردار نہ بنے
تو وہ علم نہیں، فتنہ بنے

استاد وہ جو خوف مٹا دے
دل میں یقین جگا دے

شاہین کی پرواز سکھا
خاک بازی سے بچا

استاد بنے اگر مرشد
تو قوم بنے با مقصد

خودی کی شمع جلائے جو
وہی استاد کہلائے جو

Poetry On Teacher In Urdu By Allama Iqbal 2 Lines

تعلیم ہو اگر روح کے لیے
تو دنیا جھکے اس کے لیے

استاد کا ایک حرفِ درست
بدل دے نسلوں کا نصیبِ درست

مکتب ہو اگر زندہ
تو قوم بھی ہو شرمندہ؟ نہیں، سرخرو

استاد اگر خود آزاد
شاگرد بھی ہوگا آزاد

علم ہو اگر خوف کا ذریعہ
تو استاد نہیں، جابر ہے وہ

استاد وہ جو سوال سکھائے
جواب نہیں، شعور بڑھائے

کتاب سے آگے دیکھنا سکھا
یہی استاد کا کام رہا

مکتب ہو اگر فکر کی آگ
تو راکھ ہوں سب غلامی کے داغ

استاد کا کام ہے انقلاب
نہ کہ فقط نصاب

یہی ہے فکرِ اقبال کا راز
استاد بنے قوم کا ساز

Poetry On Teacher In Urdu By Allama Iqbal SMS

استاد وہ جو خودی جگائے
غلام ذہن آزاد بنائے

شاہین بنائے جو استاد
وہی اقبال کا خوابِ آزاد

مکتب میں اگر روح نہ ہو
تو علم بھی بے سود ہو

استاد ہے قوم کی بنیاد
اس کے بغیر سب برباد

خودی کی شمع جلاؤ
قوم کو زوال سے بچاؤ

استاد بنے اگر مرشد
تو شاگرد بنے مردِ رشد

کتابیں نہیں، کردار چاہیے
استاد سے یہی پیغام چاہیے

علم ہو اگر عمل سے جدا
تو وہ علم ہے وبالِ وفا

استاد کی نظر میں ہو خدا
تبھی شاگرد بنے باوفا

تعلیم اگر صرف ہنر
تو قوم رہے گی بے خبر

استاد ہے وقت کا معمار
اس کے ہاتھ میں ہے اختیار

خودی سکھاؤ، غلامی مٹاؤ
یہی اقبال کا پیغام سناؤ

مکتب اگر زندہ ہو
تو قوم بھی زندہ ہو

استاد وہی جو خواب دے
صرف سبق نہیں، انقلاب دے

علم ہو اگر دل کی صدا
تو بدل جائے نقشِ دنیا

استاد اگر خود بے خبر
تو شاگرد بھی رہے دربدر

خودی کے راز بتاؤ
نئی نسل کو جگاؤ

استاد بنے اگر رہنما
تو قوم پائے اپنا راستہ

تعلیم ہو اگر روح کی
تو تقدیر بدلے قوم کی

یہی ہے اقبال کا یقین
استاد ہے قوم کی جانِ امین

Conclusion

Allama Iqbal’s poetry on teachers is not only a tribute but also a powerful call to responsibility and reform. His words remind us that true education begins with the awakening of selfhood and the nurturing of character. 

A sincere teacher, in Iqbal’s vision, becomes a source of light that guides individuals and uplifts entire nations. These heart-touching verses continue to inspire educators to rise above routine teaching and embrace their role as true builders of humanity and destiny.

Leave a Comment